Grangetown floods

Throughout the nineteenth century Grangetown was prone to floods and experienced a number of significant ones. Although a system of clay banks or dykes was built to manage the floods, defences strong enough to withstand exceptionally high water from the river Taff and Ely were not built until the twentieth century.

On the morning of 15 July 1875, heavy rainfall caused the river Ely to burst its banks. The Cardiff Times reported the ‘widespread devastation’, caused by the flood, painting a detailed picture of the flood and the semi-rural nature of Grangetown at the time, with fields and terraced housing being equally affected by the disaster.

‘The Grange, principally occupied by working men and their families, is completely surrounded by water to the depths of at least four feet, the highway to Penarth at seven o’clock in the evening being only passable to vehicles and horsemen. On the right of the highway the large field extending northward to the Great Western Railway resembles an inland lake, varying in depth from 4-7ft, and the water is just beginning to overflow the roadway opposite to the Grange Hotel’.

The report also reveals a snapshot of great community spirit with residents joining together to help each other. Multiple examples are cited of young men’s efforts to reduce the damage and save homes, furniture, animals and weaker residents.

‘Willing hands were not wanting to cut the traces of the horses, and help the men, who otherwise would have been carried away and drowned. Scores of men we saw carrying their little ones towards Cardiff, and two men we noticed had what appeared to be aged females in their strong arms, carefully wrapped up in coverlets and blankets.’

انیسویں صدی میں گرینج ٹاؤن بارہا سیلابوں کی زد میں رہا اور شدید طغیانیوں کا نشانہ بنا رہا. اگرچہ سیلاب کی روک تھام کیلئے مٹی سے بند بنائے گئے لیکن بہت زیادہ اونچے سیلابی پانی کو روکنے کیلئے ٹیف اور ایلی پر مضبوط بندوں کی تعمیر انیسویں صدی میں ہوئی.

۱۵ جولائی ۱۸۷۵ کو شدید بارش کے سبب دریائے ایلی کے پانی نے بند کو منہدم کر دیا. کارڈف ٹائمز نے سیلاب کے باعث ہونے والی تباہ کاریوں پر رپورتاژ کرتے ہوئے سیلاب اور اس سے متاثرہ نیم دیہاتی گرینج ٹاؤن کےکھیتوں اور گھروں کی مفصل تصویر کشی کی.

“گرینج، جس کی بیشتر آبادی مزدور مردوں اور ان کے خاندانوں پر مشتمل ہے، پانی سے مکمل طور پر گھر چکا ہے، جس کی گہرائی کم از کم چار فٹ ہے اور گاڑیوں اور سواروں کیلئے واحد گزرگاہ شام سات بجے پنارتھ کو جانے والی شاہراہ ہے. شاہراہ کے داہنے ہاتھ پر شمال میں واقع گریٹ وسٹرن ریلوے سے متصل وسیع میدان ایک جھیل کا نمونہ پیش کر رہا ہے، جس کی گہرائی ۴ سے ۷ فٹ تک ہے اور پانی نے سڑک عبور کرکے گرینج ہوٹل تک پہنچنا شروع کر دیا ہے”

یہ رپورتاژ آبادی میں رہائشیوں کے یکجا ہونے سے نمایاں ہونے والی  یکجہتی کی بھی ایک جھلک پیش کرتی ہے. ہمیں نوجوان مردوں کی سیلاب کے باعث ہونے والے نقصان کو کم کرنے اور گھروں، فرنیچر، جانوروں اور ضعیف تر رہائشیوں کو بچانے کی کوششوں کی کئی مثالیں ملتی ہیں

‘گھوڑوں کی لگامیں کاٹنے اور ان آدمیوں کیلئے جو مد د کے بغیر سیلاب کی زد میں آ کر ڈوب چکے ہوتے مد دگار ہاتھوں کی کمی نہیں تھی. بیسیوں آدمی اپنے بچوں کو کارڈف کی طرف لیجاتے دیکھے گئے اور ہم نے دو مرد وں کو دیکھا جو لحافوں اور کمبلوں میں بہت احتیاط سے لپٹی عمر رسیدہ نظر آنے والی خواتین کو اپنے مضبوط بازوؤں میں لئے جا رہے تھے.’